Saturday, April 22, 2017

حفظ قرآن ، ایک عجیب تجربہ

قرآن یاد کرنے اور اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے والے لوگوں کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بارے میں جو مذکور ہے اس پر ان شاء اللہ پھر بات ہو گی۔ اس وقت میں آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا تجربہ بیان کرنا چاہتا ہوں جسے اللہ کی توفیق سے اس طرح قرآن کریم یاد کرنے کی سعادت نصیب ہوئی کہ کسی استاد کے پاس جانے کی ضرورت پڑی نہ عام طور پر کسی کو معلوم ہو سکا کہ وہ حفظ کر رہا ہے۔رمضان المبارک کی پہلی رات محلے کے امام صاحب نے نماز عشاء کے بعد نمازیوں کو مطلع کیا کہ اس سال وہ تراویح نہیں پڑھائیں گے کیونکہ فلاں شخص کے بیٹے نے اللہ کے فضل سے کسی کو بتائے بغیر قرآن یاد کر لیا ہے لہٰذا امسال اسے موقع دیا جانا چاہیے۔ کئی بزرگ دل ہی دل میں معترض ہوئے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے لہٰذا کسی نوآموز کو موقع نہیں دیا جانا چاہیے لیکن امام صاحب کے اصرار پر سب خاموش رہے اور پھر مہینے کے آخر پر ان کی رائے مختلف تھی اور کئی لوگ فرط جذبات سے آبدیدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کی مدد کس طرح فرمائی اور بظاہر مشکل دکھائی دینے والا یہ کام اس نے کس طرح سرانجام دیا، اس کی کہانی اسی کی زبانی سنیے،
"رمضان المبارک کی آخری راتیں تھیں اور ہم مسجد میں معتکف تھے۔ نالہ نیم شب میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مجھے قرآن کریم زبانی یاد کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ دعا کرتے ہوئے دل میں خیال آیا کہ اس مقصد کے لیے سکول سے مدرسے کا رخ کرنا پڑے گا اور معروضی حالات اس کی قطعا اجازت نہیں دیتے۔ بہرحال اللہ پر توکل کرتے ہوئے اور اس کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے ایک پاکٹ سائز قرآن خریدا۔ اور انتیسویں پارے میں سورۃ الحاقۃ یاد کرنے کا آغاز کیا۔ اس وقت میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ جب پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بجتی تو استاد صاحب کے آنے تک ایک دو آیت قرآن کریم سے دیکھ کر یاد کرنے کی کوشش کرتا۔ جو آیات دن بھر میں یاد ہو جاتیں انہیں سکول سے گھر جاتے ہوئے دہرا لیا جاتا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الحاقۃ ختم ہو گئی اور سورۃ المعارج کا آغاز کیا اور چند ہی ماہ میں انتیسواں پارہ یاد ہو گیا۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ میں اپنے چھوٹے ماموں کو یہ پارہ سنا رہا ہوں اور وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ کوشش کر کے کچھ مزید سورتیں یاد کر لو۔
محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد قرآن کریم کی دو یا تین آیات کا لفظی ترجمہ اور مختصر تفسیر سکھائی جاتی تھی۔ نمازیوں کی ایک معقول تعداد اس محفل میں باقاعدگی سے شرکت کرتی۔ بڑوں کی دیکھا دیکھی ہم بچے بھی وہاں بیٹھ جاتے۔ جس سے اللہ کی توفیق سے کچھ عرصے بعد قرآن کریم کے معانی کی سمجھ آنے لگی۔ اسی دوران ایک قریبی رشتے دار نے امام حرم الشیخ عبدالرحمٰن السدیس کی تلاوت قرآن کا سیٹ ہدیہ کیا۔ الشیخ سدیس کی تلاوت سن کر یوں محسوس ہوتا گویا قرآن دل پر نازل ہو رہا ہے۔ ایک ایک سورت بار بار سننے کو جی کرتا۔الشیخ سدیس نے 1414 ھجری میں صلاۃ التراویح میں سورۃ الزمر کی تلاوت اتنے خوبصورت انداز سے کی تھی کہ سورت کا مضمون سیدھا دل پر اثر کرتا ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس تلاوت کو بسا اوقات میں دن میں کئ مرتبہ سنتا تھا لیکن دل چاہتا تھا کہ ایک دفعہ مزید سن لوں۔ (یہ تلاوت یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے)
چند مرتبہ سورت سننے سے اس کا خلاصہ ذہن میں آ جاتا ہے۔ گانے سننے والوں کی زبان پر گانے جاری ہوتے ہیں لیکن اگر قرآن کریم سمجھ کر سنا جائے تو اس کا مزہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی کشش رکھی ہے کہ ایک مرتبہ اس لذت کو چکھ لیں پھر کسی گانے والے بدکار کی آواز آپ کے کانوں کو نہیں بھائے گی۔
اس طریقے پر عمل کرتے ہوئےاللہ تعالیٰ نے 15 پارے یاد کرا دیے۔ اللہ کی شان، کہ اس وقت کالج کے امتحانات کے بعد فراغت میسر تھی سو اب اس طرف زیادہ توجہ دی۔ باقاعدہ وقت لگانے سے چند ہی ماہ میں بقیہ 15 پارے بھی مکمل ہو گئے۔ الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات۔ و لا حول و لا قوۃ الا باللہ "
اس تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم کو یاد کرنے والوں کےلیے میں چند تجاویز پیش کرتا ہوں۔
1۔ عربی زبان سے کم از کم اتنی واقفیت پیدا کریں کہ آیت سامنے آنے پر اس کا مفہوم سمجھ میں آ جائے۔ صرف و نحو میں مہارت حاصل کرنا ضروری نہیں، بس اتنی استعداد پیدا کیجیے کہ سادہ عربی عبارت کا مطلب سمجھ میں آ جائے ۔ اپنی آسانی کے مطابق تین یا چھے مہینے کا ٹارگٹ مقرر کیجیے۔اس مسئلے کا آسان حل یوں ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کے پہلے تین یا پانچ پاروں کو ترجمے اور تفسیر سے پڑھ لیجیے اور لفظی ترجمہ یاد کرنے کی کوشش کریں۔ پانچ پاروں کا لفظی ترجمہ یاد ہو جائے تو ان شاءاللہ پورے قرآن کریم کی کچھ نہ کچھ سمجھ آنے لگے گی۔
2۔ جس سورت کو یاد کرنے کا ارادہ ہو، اسے ترجمے اور تفسیر سے دوبارہ پڑھ لیں۔ اس میں بیان کی گئی باتوں پر تھوڑا تدبر کریں۔
3۔ کسی اچھے قاری کی آواز میں چند بار سورت کی تلاوت سنیں۔ (میں الشیخ سدیس کی تلاوت تجویز کرتا ہوں)۔
4۔ اس مرحلے پر سورت کا اجمالی خاکہ اور اس کے مضامین اور الفاظ کے کچھ نقوش آپ کے ذہن نشین ہو چکے ہوں گے۔ ابتدائی آیات کو یاد کریں اور یاد کی ہوئی آیات کی تعداد میں بتدریج اضافہ کرتے چلے جائیں۔
5۔ اٹھتے بیٹھے، چلتے پھرتے، سفر کے دوران اور جب بھی موقع ملے یاد کیے ہوئے حصے کو دہراتے رہیں۔
6۔ امکانی غلطی سے بچنے کے لیے یاد کیے ہوئے حصے کو سنانا مفید ہے۔ ایسا نہ ہو سکے تو ٹیپ ریکارڈر یا کمپیوٹر میں اپنی تلاوت ریکارڈ کر لیں اور پھر مصحف کھول کر اسے سن لیں۔
7۔ سب سے اہم کام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے کہ وہ اس منزل کو آپ کے لیے آسان کر دے۔ اس سے صبر اور توفیق مانگتے رہیے۔اپنے اندر مستقل مزاجی اور ہمت جیسی صفات کو پروان چڑھائیے۔ مایوسی کو قریب نہ آنے دیجیے۔ گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کیجیے۔
 

No comments:

Post a Comment